URDU NOTES (اختر حسین رائے پوری۔۔۔۔۔۔۔۔ سوانح و شخصیت)

آباؤاجداد:۔


اردو ادب میں ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ ایک عہد ساز شخصیت جو بیک وقت افسانہ نگار اور مترجم کے ساتھ ساتھ ادیب، ناقداور صحافی کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ آپ کے جدِِامجد میر صفدر شاہ عہد ہمایوں میں ایران سے بیرم خان کے ہمراہ پہلے دہلی پھر ئینہ عظیم آباد میں منتقل ہوگئے۔ اس خاندان کی دوسری اہم شخصیت میر مدن ہیں۔ جن کا ذکر گرداہ کے علاوہ تاریخ کی دوسری کتب مثلاً کمپنی کی حکومت1؎ اور جنگ آزادی: 1857ء میں2؎۔ جن کا تذکرہ میر میدان اور میر میدن کے نام سے ملتاہے۔ حمیدہ اختر حسین ضمن میں رقمطراز ہیں۔
“میر مدن سراج الدولہ کے بردار بستی اور ان کی افواج کے سپہ سالار تھے۔ پلاسی کے میدان میں میر آخری دم تک کے نواب کے ساتھ رہے۔”3؎
        میرانصار علی اور میر وارث علی نے جنگ آزادی 1857ء کے دوران ئینہ کے مجاہدوں کی قیادت میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ ان کے نوجوانوں بیٹے میر شجاعت علی جو بعد میں میر شجاعت حسین کے نام سے مشہور ہوئے۔ اپنی جان بچاتے ہوئےہمالیہ کے ترائیوں میں چھپ گئے ۔ بقول حمیدہ اختر:۔
“انگریز حکام نے اس خاندان کی ساری جائیداد ضبط کرلی ۔ تاہم چند برس بعد میر شجاعت علی ، سید شجاعت حسین کے نام سے ئینہ لوٹ آئے۔”4؎
        سید شجاعت کے دو بیٹے سید اکبر حسین اور سید اصغر حسین ہوئے۔ سید اکبر حسین نے علی گڑھ سے میٹرک اور ٹامسن انجئیرنگ کالج، رڈ کی سے 1889ء میں گرئجویشن کی۔انہوں نے کچھ عرصہ بحثییت انجئینرسکھر بیراج میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ سیاست میں دلچسپی اور انگریزوں سے مخالفت کے باعث ان کی ترقی روک لی گئی۔انہوں نے جس پر بطور احتجاج قبل از وقت پنشن حاصل کی ۔ ڈاکٹر اختر حسین راض ضمن میں رقمطراز ہیں:
“وہ بیٹوں سے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی وجہ سے تاحیات ناراض رہے۔ وہ سیاست میں دلچسپی کے باعث الہلال اور کامریڈ کے خریدار تھے۔ اور کوئی نہ کوئی قومی روزنامہ ان کےپاس باقاعدگی سے آتا تھا۔۔۔۔1931ء میں ناگ پور ہ میں منعقدہ کانگریس کے جلسے میں شرکت کی پاداش میں  ان کی ترقی روک لی گئی۔ جس پر بطور احتجاج انہوں نے قبل از وقت پنشن لے لی۔”5؎
سید اکبر حسین کی شادی 1905ء میں ممتاز النساء سے ہوئی۔ اس وقت ممتاز النساء کی عمر سترہ برس تھی۔ شادی کےبعد انہوں نے اپنی جائیداد کا انتظام شوہر کو سونپا چاہا تو اکبر حسین نے انکار کردیا۔بقول حمیدہ اختر:۔
“ممتاز النساء نے جائیداد کا انتظام شوہر کے ہاتھ میں دینا بھی چاہا مگر اکبر حسین معذوری کی اظہار کیا، شاید وہ ایسی دبنگ شخصیت بیوی کے آگے خود کو کمتر پاتے تھے۔”6؎
ممتاز النساء نے اپنی جائیداد کاانتظام و انصرام خود سنبھالا ۔ اور امور خانہ داری کے ساتھ اپنے تعلیمی سلسلے کو بھی جاری رکھا ، نیز اخباروں اور رسالوں میں مضامین بھی لکھتی رہیں اور گھر میں بچیوں کو انگریزی و اردو کی تعلیم بھی دیتی رہیں۔

پیدائش ، بچپن  اور مشکلات:۔

ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری 12جون1912ء کو رائے پورا (صوبہ متوسط ہند )میں پیدا ہوئے۔ان کی والدہ ممتاز النساء اک سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔ اختر حسین کے بڑے بھائی مظفر حسین شمیم تھے۔ ان کی والدہ 26سال کی عمر میں 1915ءمیں اپنے خالق ِ حقیقی سے جا ملیں۔ اس وقت مظفر حسین شمیم چھ برس اور اختر حسین تین برس کے تھے۔والدہ کی رحلیت کے دردناک واقعہ کا نقش اختر حسین کے معصوم ذہن پر بقت ہوگیا۔ جس کا اظہار انہوں نے افسانوی مجموعے“محبت اور نفرت”میں بڑی تفصیل سے کیا ہے۔7؎
        والدہ کے انتقال کے بعد ان کی پرورش نانا بیرن کرتی تھیں اور گھر سے باہر کی ذمہ داریاں بہشتی میاں نبھاتے تھے۔ بیرن  بھی سے انسیت کے بارے میں اخترحسین رقمطراز ہیں۔
“جہاں تک یاد پڑتا ہے اس تغیر سے مجھے زیادہ افسوس نہ ہوا کیوں کہ ماما کی قربت مجھے کہیں زیادہ پسند تھی۔”8؎
اختر حسین اور مظفر حسین شمیم کو والدہ کی طرف سے وراثت میں دو گاؤں اور شہر میں جائیداد ملی ، لیکن والد کی دوسری شادی کے باعث ماما پیرن حجانے نے ان پر پابندیاں عائد کردی۔ والد کی طرف سے عدم توجہی نے  ننھیال کو جائیداد پر قبضہ کرنے پر مجبور کردیا، تو آپ  کے والد نے قبضہ چھڑانے کی بجائے ختم کرلیا۔ اختر کا اس بارے میں خیال ہے۔
“ننھیال کی طرف سے جائیداد پردست درازی کے باعث والد نے ان سے تعلق ختم کرلیا اور ہم دونوں کو بھی ان سے دور ہنے کی تاکید کی۔”9؎
        اس بات سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اختر حسین کے ماموں حبیب الدین نبرج  بطور گار جین ساری جائیداد فروخت کرگئے ۔جس کا اعتراف انہوں نے اختر کی شادی کے موقع پر ایک خط میں کیا۔ ننھیال کی طرف سےدرپیش مسائل ،والدہ کی موت اور والد کے غلط کاروباری فیصلوں کے باعث اختر کو مالی مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔ یہاں تک کہ میٹرک کے بعد کی تعلیم کےلئے ان کے والد کے پاس کچھ نہ تھا۔ والد کی طرف سے مزید اخراجات کی معذوری کے اظہار یوں کیا ہے۔ بقول اختر حسین رقمطراز ہیں۔
        “میری بھی یہی آرزو ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ علم حاصل کرو ، لیکن میں فی الحال اس قابل نہیں ہوں کہ تمہاری مدد کرسکوں۔”10؎

URDU NOTES (اختر حسین رائے پوری۔۔۔۔۔۔۔۔ سوانح و شخصیت) URDU NOTES (اختر حسین رائے پوری۔۔۔۔۔۔۔۔ سوانح و شخصیت) Reviewed by HUB OF ARTICLES on 23:05 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.