پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد


In Pakistan around 50 million children are under 17 years of age and out of which about 4.2 million are orphans.
اقوام متحدہ کے ادار ے یونسیف” کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 50 ملین بچوں کی عمر 17 سال سے کم ہے۔جن میں سے 4.2 ملین یعنی 42 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں۔ اس کی بڑی وجہ قدرتی آفا ت اور حادثات ہیں۔ان میں بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جنہیں تعلیم وتربیت، صحت اور خوراک کی مناسب سہولیات میسر نہیں۔بد قسمتی سے روز بروز بگڑتی معاشری صورتحال ، کم آمدنی اور سماجی رویوں کے باعث بھی یتامیٰ کے خاندان کے لئے اس کا بوجھ اُٹھانا مشکل ہوجاتاہے۔ یہ بچے تعلیم و تربیت اور مناسب سہولیات نہ ملنے کے باعث معاشرتی اور سماجی محرومیوں کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ کئی تو بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ توجہ اور بنیادی سہولیات نہ ملنے کے باعث یہ یتیم بچے معاشر ے کے بے رحم تھپیڑوں کی نظر ہوجاتے ہیں ۔ جہاں ان کی تعلیم وتربیت ایک سوالیہ نشان بن جاتاہے۔
تعلیم ، صحت ، خوراک  اور ذہنی نشوونما و جسمانی نشوونما کے سا تھ ساتھ دیگر بنیادی ضروریات سے محرومی تو ان بچوں کا مقدر ٹھہرتا ہی ہے لیکن اس سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان بچوں کو کتابیں پکڑنے کی بجائے اوزار اُٹھانے پڑتے ہیں۔ چائلڈ لیبر کا شکار ہوناپڑتاہے۔ ایسے ہی معاشرے میں چھپے مسخ چہرے انہیں بچوں کو منشیات، گداگری، اسمگلنگ اور جنسی زیادتی جیسے گھناؤ نے جرام میں استعمال کرتے ہیں۔ ایک بڑا مافیا بچوں کی اسمگلنگ کرتا ہے جن میں بچوں کے اعضاء تک فروخت کیے جاتے ہیں۔
جو بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں ان کے لئے بچوں کے اخراجات مکمل کرنا بھی کبھی مشکل تو کبھی ناممکن ہوجاتا ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان بچوں کو بہتر نگہداشت کے لئے بھر پور وسائل کااستعمال کیاجائے۔دُنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ایسے درد دل رکھنے والے لوگ موجود ہیں  جو یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کےلئے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی حوالے سے ایک معتبر فورم پاکستان آرفن کئیر کے نام سے کام کررہا ہے۔  پاکستان آرفن کئیر فورم کے چئیرمین محمد عبدالشکور سے جب اس حوالے سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بچے کسی بھی معاشرے کاسرمایا اور مستقبل ہوتے ہیں اوراُنہی بچوں نے آگے چل کرملک کی بھاگ دوڑ سنبھالتی ہے۔ والدین کی ہرممکن کوشش ہوتی ہے کہ ان کے لئے بچے کو اچھی خوراک ملے، ان کی تعلیم وتربیت اچھی سے اچھی ہو۔ اور انہیں وہ تمام بنیادی سہولیات میسر ہوں جن کی بنیاد پر وہ خوش وخرم اور کامیاب زندگی گزار سکیں۔
ہمارا معاشرہ ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں خاندان کے افراد اپنی روز مرہ ضروریات کے لئے مرد پر انحصار کرتے ہیں۔ جو شوہر یاباپ کی صورت میں نوکری یاکاروبار کی مدد سے خاندان کے باقی افراد کی کفالت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے موت اور زندگی کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے۔موت یہ نہیں دیکھتی کہ کسی کے بچے چھوٹے ہیں یاکسی خاندان کے کفیل کےاس جہانِ فانی سے رُخصت ہوجانےکے بعد کفالت کیسے ہو گی۔ یہ اللہ کا نظام اور کسی معاشرے کاامتحان ہے کہ ان بچوں سے معاشرہ کیا سلوک کرتا ہے۔
پاکستا ن میں بیسوں ملکی اور بین الاقوامی فلاحی ادارے یتیم بچوں کی کفالت و فلاح وبہبود کے لئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔ ان میں سے کچھ ادارے یتیم بچوں کی کفالت کےلئے گھر وں کی تعمیر (یتیم خانے) کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔اور کچھ ادارے ملک بھر میں یتیم بچوں کی کفالت کااہتمام ان کے گھروں پر کررہے ہیں۔
پاکستان میں یتیم بچوں کی کفالت کرنے والے انہی اداروں نے پاکستان میں یتیم بچوں کے مسائل اور معاشرے کی اجتمائی ذمہ دارویوں کا شعور اُجاگر کرنے کےلئے پاکستان آرفن کئیر فورم”تشکیل دیا ہے۔ اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ “پاکستان آرفن کئیر فورم” ہرسال 15رمضان کو “یوم یتامیٰ” کے طور پرمنایا کرےگی۔ اسلام نے جن اعمال کو بہت واضح طور پر صالح اعمال قرار دیا ہے ان میں یتیموں اور مسکینوں کی مدد کو ترجیح دی گئی ہے۔
قرآن پاک میں ارشاد ہے:
اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جوبھلائی تم کروگے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی1۔
        نبی کریم ﷺخود بھی یتیم تھے اور اس لئے جہاں آپﷺاوروں کے ساتھ صلہ رحمی ،عدل ،پاکدامنی اور درگزر کا پیکر تھے۔ وہاں مسکینوں ، بیواؤں اور خصوصاً  یتیموں کے لئے سب سے بڑھ کر پیکر جودو سخا تھے۔
حضور اکر مﷺ نے فرمایا:
        میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ہوں گے(اور آپﷺ نے اپنی شہادت اور بیچ والی اُنگلی سے اشار ہ کیا) نبی رحمت ﷺ کے خلق عظیم کی تفصیلات ایک بحر بے کراں ہیں کہ انہیں سیمٹنا ناممکن ہے۔
        حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی مجسم قرآن کہا ہے۔آپ ﷺنے اُسوۃ حسنہ سے ہی دُنیا انقلاب ے آشنا ہوئی ۔ انسان نے اپنے آپ کو پہچانا۔ انسانیت کی رفعتوں کو پایا۔ زندگی کا قرینہ سیکھا ، مقدمہ حیات سے آگاہی حاصل کی۔آج کا یتیم کل کا جوان ہوگا۔اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن جن محرومیوں اور احساس کمتری کا شکا ر ہوتاہے اس کاازالہ ممکن نہیں ہوتا اور یہ محرومیاں اس بچے کے مستقبل پر بھرپور اثر انداز ہوتی ہیں۔اس لئے ہمارا فرض  بنتاہے کہ یتیم بچہ، جو ملک وقوم کاوارث بننے جارہا ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ شفقت و محبت سے نواز یں۔ اگر بچپن میں یتیم کو آوارہ چھوڑ دیاگیا اور اس نے غلط تربیت پائی تو یہ معاشرے کےلئے مفید شہری ثابت ہونے کی بجائے خطرہ بن جائےگا۔
        وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیاجائے اور معاشرے اور حکومت کی توجہ دلائی جائےکہ اگران یتیم بچوں کاسہارا نہ بنایا گیا اور ان کی تعلیم وتربیت کے لئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ان بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کی ضرورت ہےتاکہ اپنے وطن میں یتیم بچوں کی اتنی بڑی تعداد کو اس معاشرے کاکارآمد شہری اور فرد بنایا جاسکے۔ مذہبی تعلیمات اور معاشرتی ذمہ داری تو ہر دل میں خواب بنتی ہے، کہ وہ جاگے اور دیکھےاس کے رشتہ داروں میں اہل محلہ ، علاقے اور شہر میں کوئی یتیم بے سہارا تو نہیں۔




پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد پاکستان میں یتیم بچوں کی تعداد Reviewed by HUB OF ARTICLES on 23:12 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.