افسانے کاانجام Afsane ka Anjam


افسانے کاانجام:۔
        افسانے کا خاتمہ یا انجام بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس نازک مرحلے پرافسانے کی کامیابی یاناکامی کاانحصار ہے ۔افسانے کےاختتام پر فنی محاسن  کا خیال رکھتے ہوئے دلچسپی قائم رکھنا افسانہ نگار کی مہارت کاثبوت ہے۔ افسانے کے انجام کے لئے ضروری ہے کہ وہ واقعات کافطری اور منطقی نتیجہ ہو اس میں قاری کے لئے فکر کا مواد موجود ہو۔ ڈاکٹر سبیل بخاری رقم طراز ہیں۔
        “بعض ناتجربہ کارانجام افسانہ میں اپنے ذاتی خیالات اور رُجحانات کااظہار کردیتے ہیں۔ ان کا یہ ناعاقبت اندیشہ تمام محنت پر پانی پھیر دیتا ہے۔ ” صاحت مشتاق اپنی افسانہ نگار میں کہ اس کے افسانوں کے انجام غیر مہر بند ہوگے ہیں۔ یعنی Copan ends  اس سے قاری کے ذہین کو جلاملتی ہے اور اس پر انجام کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ کن فیکون” افسانے کا انجام  غیرمہر بند ہے۔ مصنفہ نے چابک دستی سے کہانی کو ایسے اختتام کیا ہے ایک سے زیادہ ممکنات کا پر تو جھکتاہے


یادوں کا اک ہجوم ہے پہچان کر گیا

چہرے پہ آج آپ کے مسکان ۔۔ کر گیا 

میں نیند کے خمار سے یک دم نکل گئی
آئی صدا جو کان میں بے جان کر گیا
جب سے نگاہِ ناز نے بدلے ہیں سلسلے
کاجل یہ میری آنکھ میں حیران ۔۔ کر گیا 
چھوڑی ہے جب سے پیار کے گلشن کی وہ گلی
اب میرے گھر میں پھول سے گل دان کر گیا 
کیسی یہ اس نے پیار پہ لکھی ہے اک غزل
جس میں شبِ حیات کا عنوان ۔۔ کر گیا 
اچھے دنوں میں ساتھ تھا وشمہ ترا مگر
مشکل میں ساتھ آج مری جان۔۔ کر گیا



مثال:۔
           “تصوریر میں کھچٹری بالوں اور ویران آنکھوں والی عورت نیم دراز تھیں جس کے اردگرد کتابیں بکھری تھیں اور جسم کے ہر مسام سے خون رس رہا تھا۔اس نے قدم آگے بڑھایا اور تصویر کے چوکھٹے میں داخل ہوگی۔ یوں گھر کی وہ خالی دیوار اور اس کی فیملی دونوں مکمل ہوگئے۔

        “گریں فورڈ کے انکل گوریو”کا انجام بھی اسی طرح کا ہے کہ غیر مہربند ہی ہے۔ ایسے انجام کسے لطافت اور کثافت ڈھلکتی ہوئی نظر آتی ہے جس سے معنی خیزی جنم لیتی ہے۔ اور یہی معنی خیزی قاری کو کبھی دورا ہے۔ اور کبھی چورا ہے پر چھوڑتی نظر آتی ہے۔ اس کہانی کاتمام حالات کے مطابق ہے ۔قاری انجام سے متفق بھی نظر آتا ہے۔
        بعض اوقات افسانے کا انجام پورے افسانے کی مصنویت بدل کر رکھ دیتا ہے۔ اس لئے افسانہ نگار قد م بقدم پیش رفت کرتے ہوئے افسانے کو اختتام پذیر کرتا ہے ۔آغاز اور انجام کے درمیان کڑیاں ملاتا ہے۔ افسانے کا ہر جزو موزوں اور مناسب ہوتو افسانہ ایک بھر پور اکائی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ انجام کے بارے کوئی طے شدہ کلیہ یافارمولا نہیں لیکن اسے دلچسپ فکر انگیز ضرور ہونا چاہئے ۔کہانی لکھنا اور ہے اور منطقی انجام تک پہنچانا ۔نہ تو ریاضی کا کوئی اصول ہے نہ کوئی سائنس کا۔
افسانے کاانجام Afsane ka Anjam افسانے کاانجام Afsane ka Anjam Reviewed by HUB OF ARTICLES on 22:55 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.