منظر نگاری:۔


منظر نگاری:۔
        صباحت مشتاق کے افسانوں میں منظر نگاری بھر پور انداز میں موجود ہے اور تمام کہانیوں میں خوبصورت منظر نگاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہانی لکھتے ہوئے زیادہ تر ماحول اور فطرت کے مناظر بنائے ہیں ۔ یہ مناظر اکثر صبح وشام پہاڑ، درخت وغیرہ کے ہوتے ہیں ۔ صباحت مشتاق کےافسانے پڑھتے ہوئے منظر نگاری کے فن میں قاری محو ہوجاتا ہے۔ اور وہ خود کو اس منظر کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔صباحت مشتاق زیادہ تر کہانیوں کی ابتداء کی فطری منظر سے کرتی ہیں اوراس منظرکے سحر میں قاری کو محو کردیتی ہے۔ جس کی مثال ان کے پیش تر افسانے میں جن میں آسیب”اور “اعتراف” “اعتراف”اور “انتساب” “ماریہ ”وغیرہ شامل ہیں اور اب ایک خوبصورت منظر جس سے کہانی کی ابتداء ہوتی ہے۔
        اس منظر کے بعد افسانہ نگار فلیش بیک تکنیک کے ذریعے سے قاری کو قصے سے آگاہ کرتی ہیں۔ صباحت مشتاق منظر بنانے کے ساتھ واقعات بیان کرتی ہیں اور ایک خوبصورت انداز اختیار کرلیتی ہیں کہ قاری اس سحر کی آثرافرینی میں گرفتار ہوتا چلاجاتا ہے ۔اس طرح افسانے میں جاذیبیت کا پہلو بھی بڑھتا چلاجاتا ہے۔صباحت مشتاق کے افسانوں میں منظر فرد پر اثر کرتا ہے۔ کردار اس ماحول ، جس کا منظر بنایاجارہا ہے اس کا تاثر لیتے ہوئے اپنی کہنیات میں اتار چڑھاؤمحسوس کرتے ہیں جیسا کہ “لیلیٰ”افسانے میں سپورٹنگ کریکٹر(اسکی دوست) منظر کو دیکھتے ہوئے زندگی کااندازہ لگا رہی ہوتی ہے۔ جس کاایک اقتباس درج ہے۔
        کیپٹل سٹی کے فیڈرل لاج کسی آخری منزل پر میں کھڑکی سے لگی شیر کے مغربی حصے کو دیکھ رہی تھی ایک ایسا منظڑ جو ہوائی جہاز کے اُران بھرتے ہی بلندی سے نظر آتا ہے۔ سامنے پھیلی وسیع پنیائی میں سرکاری دفاتر کے سفید رنگ کھڑی دار افقی اور عمومی بلاک، سرسبز درختوں میں چھپے سفارت خانوں کاخاموش ڈپلومیٹک ایریا، جدید وضع انٹرکان ہوٹلرز ،سٹی مکب،سینماؤں اور شاپنگ سنٹرز۔۔۔۔۔۔۔
        غروف آفتاب کی مدھم سرخی خشک پہاڑوں کے نیچے تاریکی میں ڈوب گئی آج کے دن کا پہلا ایک ختم ہوا۔ آسمان سے ہر لمحہ اترتے اندھیرے میں اب دوسرا ایکٹ شرماہورہا ہے۔میکانکی طرزحیات کے عادی ہر کردار اپنا پانا رول نبھا رہا ہے ۔ہرروز کی طرح ایک ہی سکریٹ ایک ہی فٹ ورک ۔ میں بھی اس کا نسرٹ کا ہوں ۔ جو دریچے سے اس منظر کا نظارہ کررہی ہوں۔ میری طرح اور بہت  سے لوگ بھی اس اوپن ایٹر اسٹیج کو دیکھ رہے ہوں گے۔ ہم سب اس انسانی تماشے کا کوئی نہ کوئی رول نبھارہے ہیں۔ (شیکسپئر نہ بھی کہتا تو ایسا ہی ہوتا)                                      ص۔41        
        صباحت مشتاق کے افسانوں میں انسانی بیکٹر تراشی کو خوبصورت انداز میں بیان کی گئ ہے۔ انسان کے خدوخال اور سراپہ نگاری میں قاری کردار کو متحرک تصوریر تصور کرتاہے جیساکہ صباحت مشتاق منظر میں نہ صرف واقعہ نگاری کرتے ہیں بلکہ فطری مناظر، ماحول کی جزئیات اور انسانی سرایا نگاری کو بھی بہت عمدہ انداز میں بیان کرتی ہیں ۔ اس قسم کے مناظر سے قاری کے دل میں ایک تجسس پیدا ہوتا ہے ۔ایسا تجسس جو اسے مزید دل جمی کےساتھ مذکورہ افسانے پڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔ منظر نگاری کےفن میں صباحت مشتاق المیت کا درجہ رکھتی ہیں۔
حلیہ نگار ی کاخاکہ نگاری:۔
        صباحت مشتاق اپنے کردار کا مجسم کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ قار ی کے سامنے وہ کردار مثالی حالت میں آجاتا ہے۔ یہ فن کم ہی افسانہ نگاروں کے حصے میں آتا ہے۔ جو کردار کی حلیہ بندی کافن جانتے ہوں۔ صباحت مشتاق اپنے پہلے افسانے نہ جنوں رہا نہ پری ای”میں کردار کا بطور حلیہ نگاری سے تعارف کرواتی ہیں۔
        عمران سنگھیاں یباں بھار”میں خورشید کاحلیہ اس طرح بیان  کیا گیا ہے کہ اس کی تصوراتی شکل اور خوبصورتی قاری کے ذہن میں پیوست ہوجاتی ہے۔ صباحت مشتاق اپنے کردار کی ایسے ایسے زاویوں سے حلیہ کشی کرتی ہیں کہ ہر زاویہ کھل کر اپنے کردار کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔
        بلقیس نے تھوڑی سے پکڑکر اس کا چہرہ اوپر اُٹھایا، سفید رنگ جو اُس وقت گلابی ہورہاتھا۔ سُرمے سے بھری بادامی آنکھیں اور بھر ے بھرے گلابی ہونٹ۔۔۔۔۔


منظر نگاری:۔ منظر نگاری:۔ Reviewed by HUB OF ARTICLES on 22:38 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.