Mukalma Nigari (مکالمہ نگاری)


مکالمہ نگاری:۔
        مکالمہ بالمشافہ گفٹ گو کا نام ہے۔اور یہ گفٹ گو کہانیوں میں دو طرح سے ہوتی ہے۔ایک خود کلامی (Monologue)اور دوم ، لوگوں کے درمیان بات چیت(Dialogue)۔صباحت مشتاق  کے پیش نظر افسانوں میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔ کردار سوچتے اور زندگی میں کوئی فیصلہ لینے سے قبل اپنے نفس کا کتھارسین (تزکیہ) کرتے ہیں۔ دیکھتے ہیں اور خود سے کلام کرتے ہیں کہ آیا یہ بات درست بھی ہے کہ نہیں ۔خود کلامی کی مثال برف افسانے سے
زندگی بڑے عجیب ہوگئی تھی وہ چیز جیسے
لوگ میرا شوہر کہتے تھے ،اس کارویہ
میرے لئے بڑا عجیب تھا اس کا لاتعلقی
اور سر د میری کی وجہ سے میں خود بھی سرد ہونے لگی ،حالانکہ وہ ہر شام مجھے یقین لاتا کہ وہ صرف مجھ سے محبت کرتا ہے آج تک اس نے کسی اور سے محبت نہیں کی ۔۔۔۔۔۔میں حیرت سے اس کی شکل دیکھتی ، وہ مجھے بنجر یا زمین کا حصہ لگتا جس میں نمو کی خوبی تھی نہ خواہش
ص۔71
        دو افراد کے درمیان گفٹ گو صباحت مشتاق کے افسانوں میں بھر پور انداز ے موجود ہے ۔کردار آپس میں بات چیت کرتے ہیں بات سمجھنے اور سمجھانے کےلئے اور اسی انداز اور معیار کے مطابق بات کرتے ہیں۔ جس طبقے کے کردار تعلق رکھتے ہیں ان کرداروں کے مکالموں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جیسے قارئین اس ماحول میں موجود ہیں اور سامنے کھٹرے انسانوں کی گفٹ گو سن اور سمجھ رہے ہیں۔
  مکالمہ کرداروں میں ان کے مقام و مرتبہ اور زبان کے حوالے سے ہوتا ہے۔ صباحت مشاق کے کردار مقامی اور مغربی حوالوں سے اخذ کردہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے وہ مقامی و مغر بی دونوں زبان اور لہجہ کارفرما ہیں۔صباحت مشتاق کے اعتراف افسانوی مجموعے ہیں۔ ایک افسانہ ایسا ہے جو زیادہ تر مکالمے پر مشتمل ہےجس کا عنوان آسیب ہے۔کردار آپس میں معاملات مکالمے کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
        کردار نگاری کے حوالے سے یہ بات بھی بڑی اہم ہے کہ صباحت مشتاق کے کردار نہایت نرم انداز میں مکالمہ کرتے ہیں۔لیکن جہاں پر بات نفسیاتی کش مکش کی ہوتی ہے وہاں پر بات سامنے والے کے انداز میں کرتے ہیں۔ تا کہ ان کے نفس کو تسکین حاصل ہوسکے۔ان کے کردار خود مکالموں کے ذریعے سے اپنی پہچان کرواتے ہیں ۔ یعنی جس معاشرتی طبقے سے فرد تعلق رکھتا ہے اس کی پہچان مکالموں کے ذریعے ہی سے ہوجاتی ہے۔صباحت مشتاق اپنے افسانوں میں کرداروں کے مکالمے زیاد ہ تر واوین میں لکھتی ہیں ۔ جس سے انکی شخصیت کے علمی اخلاص اور تحقیقی وصف کابھی پتہ چلتا ہے۔
        صباحت مشتاق کے کردار کسی عالم گیر سیاسی نظر یے کے حاصل کردار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کرداروں میں گھریلو لب و لہجہ پر مبنی مکالمے ہوتے ہیں۔ اور زیادہ تر جب فرد سے بات کی جارہی ہے اس کی نفسیات کو ضرور پیش نظر رکھاجاتاہے
Mukalma Nigari (مکالمہ نگاری) Mukalma Nigari (مکالمہ نگاری) Reviewed by HUB OF ARTICLES on 22:24 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.