Kishwar Naheed (کشور ناہید):.


کشور ناہید:۔
" نام کشور ناہید " تخلص ناہید ہے۔۳ فروری ۱۹۴۰ء کو بلند شہر پوپی میں پیدا ہوئی ۔ ایم اے معاشیات پاس کیا ۔ محکمہ اطلا ت و نشریات کے ادبی مجلہ " ماہ نور" کی چیف ایڈیٹر کے منصب پر فائز رہی۔ بعد ازاں پاکستان نیشنل سنیٹر، لاہور کی ریزیڈنٹ ڈائریکٹر رہیں۔ ڈائریکٹر مرکزی اُردو سائنس بورڈ لاہور ، کے عہدے پر فائز رہیں ۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں۔لب گویا(غزلیات ) ، بے نام مسافت (نظمیں ) " گلیاں ،دھوپ ، دروازے " (نظمیں ، نثر نظمیں ،غزلیں ) ۔" ناوک دشنام ، " عورت ، خواب اور خاک کے درمیان " سخیالی شخص سے مقابلہ، " بڑی عورت کی کتھا" ( خود نوشت حالاتِ زندگی)
" نازائیدہ بیٹی کے نام" شناسائیاں ، رسوائیاں " لب گویا پر ۱۹۴۹ء آدم جی انعام ملا۔حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں حسن کارکردگی کے تمغے سے نوازا
کشور نے معاشرے میں عورت کو اُس کا صحیح مقام دلوانے کے لیے بہت جدوجہد کی۔ صنف اور جسم پر انسانیت کو ترجیح دی ۔ مرد اور عورت دونوں انسان ہیں۔صنفی تقسیم کی بجائے دونوں کو انسان سمجھا جائے۔کشور صنفی مساوات کی علمبردار ہیں۔کشور ناہید نے اپنی شاعری میں عورت کو مرکز بنایا ہے اور عورت پر ہونے والے ظلم وستم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔آپ ایک روشن خیال خاتون ہیں یہی وجہ ہے کہ کشورناہید کی شاعری پر روشن خیال تانیثت کے اثرات دیکھا جاسکتے ہیں۔ کشور ناہید کی شاعری میں تمام نسائی پہلو موجود ہیں۔عشق محبت ،وصال ، فراق کی کیفیات بھی موجود ہیں اور مردانہ سماج سے بغاوت بھی موجود ہے لیکن اپنی اَنا کو فراموش نہیں کرتی۔

Kishwar Naheed was conceived in 1940 to a Syed family in Bulandshahr India. She moved to Lahore, Pakistan after segment in 1949 with her family. Kishwar was an observer to the savagery (counting assault and snatching of ladies) related with partition.The carnage around then left an impact on her at a youthful age As a young lady, Kishwar was roused by the young ladies who had begun going to Aligarh Muslim University in those occasions. The white kurta and white gharara under a dark burqa that they wore looked so rich to her and she needed to attend a university, to peruse and write۔

Kishwar Naheed (کشور ناہید):. Kishwar Naheed (کشور ناہید):. Reviewed by HUB OF ARTICLES on 23:33 Rating: 5

No comments:

Powered by Blogger.