اسلام میں یتیم ونادار بچوں کی کفالت
قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا
ہے۔ معاشرے کے اندر کچھ ایسےافراد کے حقوق کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جن
سے آپ کا تعلق چولی دامن کا ہے۔انہیں کسی بھی حال میں نظر انداز یا بھلایا نہیں
جاسکتا ۔ انہی میں“یتامیٰ”بھی
داخل ہیں۔ارشاد ربانی ہے۔
وَاعبُدُوا
اللّٰہَ وَلَا تُشرِكُوا بِهٖ شَئًـاؕ وَّبِالوَالِدَينِ اِحسٰنًا وَّبِذِى
القُربٰى وَاليَتٰمٰى وَ المَسٰكِينِ وَالجَـارِ ذِى القُربٰى وَالجَـارِ
الجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَـنبِ وَابنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَت اَيمَانُكُمؕاِنَّ
اللّٰہ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُختَالاً فَخُورَا ۔(سورۃ النساء:
36)
“اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ۔اس کے ساتھ کسی کو شریک مت
ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ سلوک واحسان کرواور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار
ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راہ کے مسافر سے اور ان
سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں۔ (یعنی غلام و کنیز سے)یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر
کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا”۔
اسلام کی نگاہ میں
اچھے اور نیک وہ مانے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت وغیرہ پر ایمان رکھتے ہوئے
مال کی محبت اور ضرورت کے باوجود اللہ تعالیٰ کو خوش رکھنے کے لئے قرابت داروں ،
یتیموں اور مسکینوں پر خرچ کرتے ہیں ۔ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سچے
متقی اور سچے پرہیزگار مانے جاتے ہیں۔ارشاد باری ہے۔
لَيسَ البِرَّ اَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُم قِبَلَ المَشرِقِ وَ
المَغرِبِ وَلٰـكِنَّ البِرَّ مَن اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَاليَومِ الاٰخِرِ
وَالمَلٰٓٮِٕکَةِ وَالكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ وَاٰتَى المَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى القُربٰى
وَاليَتٰمٰى وَالمَسٰكِينَ وَابنَ السَّبِيلِ وَالسَّآٮِٕلِينَ وَفِى الرِّقَابِ
وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ وَالمُوفُونَ بِعَهدِهِم اِذَا
عٰهَدُوا وَالصّٰبِرِينَ فِى البَاسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِينَ البَاسِؕ
اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِينَ صَدَقُواؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ المُتَّقُونَ ۔
(سورۃ االبقرۃ : 177)
“ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں،
بلکہ حقیقتاً اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ پر ، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر ،کتاب
اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو ، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت
داروں ،یتیموں ،مسکینوں ،مسافروں اور سوال کرنے والو ں کو دے، غلام کو آزاد کرے،
نماز کی پابندی اور زکوٰ ۃ کی ادائیگی کرے ۔جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے۔تنگ دستی
،دُکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے ۔ یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیز گار ہیں”۔
یہی وہ نیک لوگ
ہیں جو یتیموں اور مسکینوں کی عزت کرتے ہیں ،ان کا ہر حال میں اور ہر قدم پر خیال
رکھتے ہیں ۔ کھانے کی رغبت و چاہت کے باوجود بھی وہ اپنے آپ پر اُنہیں ترجیح دیتے
ہوئے اُنہیں کھانا کھلاتے ہیں ۔ اس سے ان کا مقصد نہ تو ریاو شہرت ہے، نہ تو
دُنیاوی کوئی فائدہ اور نہ ہی ان سے کسی قسم کا بدلہ و شکریہ ، بلکہ یہ سب کچھ
اللہ تعالیٰ کی رضامندی و خوشنودی کی خاطر کرتے ہیں۔قیامت کے دن کی ہولناکیوں و
پریشانیون سے بچنے کے لئے کرتے ہیں ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں بھی اپنی
رحمت سے نیک بندوں میں داخل کردے اور ان کو بھی اپنے فضل و کرم سے جنت کاحق دار
بنادے۔ اللہ تعالیٰ کاا رشاد گرامی ہے:
اِنَّ الاَبرَارَ يَشرَبُونَ مِن كَاسٍ كَانَ مِزَاجُهَا
كَافُورًا ۤعَينًا يَّشرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ يُفَجِّرُونَهَا
تَفجِيرًا ۤيُوفُونَ بِالنَّذرِ وَيَخَافُونَ يَومًا كَانَ شَرُّه
مُستَطِيرً ا ۤ وَيُطعِمُونَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسكِيۡنًا وَّيَتِيمًا
وَّاَسِيرًا ۤ اِنَّمَا نُطعِمُكُم لِـوَجهِ اللّٰہِ لَا نُرِيدُ مِنكُم جَزَآءً وَّلَا شُكُورًا ۤ اِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَومًا عَبُوسًاقَمطَرِيرًا ۤفَوَقٰٮهُمُ اللّٰہُ شَرَّ ذٰلِكَ اليَومِ وَ لَقّٰٮهُم نَضرَةً
وَّسُرُورًا ۤوَجَزٰٮهُم بِمَا صَبَرُواجَنَّةً وَّحَرِيرًاۙ (سورۃ الدھر: 5-12)
“بیشک نیک لوگ وہ جام پئیں گے جس کی آمیزش کا فور کی ہے۔ جو
ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے بندے پئیں گے ،
اسکی نہریں نکال لے جائیں گے(جدھر چاہیں)جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے
ہیں جس کی بُرائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں کھانا کھلاتے
ہیں ، مسکین،یتیم اور قیدیوں کو ، ہم تو تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لئے
کھلاتے ہیں ، نہ تم سے بدلہ چاہتے ہیں نہ شکرگزاری ، بیشک ہم اپنے پروردگار سے اُس
دن کا خوف کرتے ہیں جو اداسی اور سختی والا ہوگا۔پس اُنہیں اللہ تعالیٰ نے اس دن
کی بُرائی سے بچا لیا اور انہیں تازگی اور خوشی پہنچائی اور انہیں ان کے صبر کے
بدلے جنت اور ریشمی لباس عطافرمائے”۔
اسلام میں یتیم ونادار بچوں کی کفالت
Reviewed by HUB OF ARTICLES
on
11:59
Rating:
Reviewed by HUB OF ARTICLES
on
11:59
Rating:

No comments: